91963



بيوى كے اخلاق اور دين ميں كوتاہى كى مشكل سے دوچار خاوند
ميں نے تقريبا دو برس سے اسلام قبول كيا ہے اور اس وقت سے شادى بھى كى ہے، ميں نے چھوٹى عمر ميں ہى شادى كر لى كيونكہ مجھے علم ہوا تھا كہ لڑكيوں سے تعلقات اور وعدہ كرنا حرام ہے، افسوس ہے كہ مجھے خاوند اور بيوى كى ذمہ داريوں كا علم نہ تھا، اب مجھے يہ مشكل درپيش ہے كہ ميرى بيوى ـ جو كہ ہمارے پہلے بچے كى حاملہ بھى ہے ـ كبھى كبھار اور نادر طور پر ہى نماز ادا كرتى ہے، اور ميرا اسلامى لباس پسند كرنے كو يہ كہہ كر مذاق كرتى ہے كہ جب ميں اسلامى ملك ميں ہوں تو يہ اسلامى لباس پہنا كروں نہ كہ يورپ ميں رہتے ہوئے.
اور مجھے يورپى لباس پہننے كى ترغيب ديتى اور امريكى معاشرے ميں ايڈجسٹ ہونے كا كہتى ہے، اور جو عورتيں اسلامى اور عفت و حشمت والا لباس زيب تن كرتى ہيں ان سے تنگ ہوتى اور انہيں تنگ كرتى ہے، خاص كر پردہ كرنے واليوں كو، اور جب بھى ميں اسے نماز كى ادائيگى پر ابھارتا اور ترغيب دلاتا ہوں تو وہ كہتى ہے نماز كا معاملہ اس كے اور اللہ كے درميان ہے، اور مجھ سے بہت سخت ناراض ہوتى ہے، يہ سب كجھ ميرے درد اور مشكل ميں اور بھى اضافہ كر ديتا ہے.
ليكن مجھے سب سے زيادہ تكليف اس بات كى ہے كہ ميرى بيوى دين سے جاہل نہيں، بلكہ ايك وقت ايسا بھى تھا كہ وہ پردہ كرتى اور نقاب كيا كرتى تھى، اور نصف قرآن مجيد تفسير كے ساتھ حفظ بھى تھا، برائے بہربانى جناب والا مجھے كوئى مشورہ ديں جزاك اللہ خيرا.

الحمد للہ:

اول:

سوال كرنے والے بھائى آپ كے ليے يہ جاننا ضرورى ہے كہ كفريہ ممالك ميں بود و باش اور رہائش اختيار كرنا حرام ہے، اور آپ كو يہ علم ہونا چاہيے كہ وہاں رہنے سے دين اور اخلاق پر كيا برے اثرات مرتب ہوتے ہيں، اور وہاں ان كافروں كے مابين رہنے والوں كے افكار اور سوچ ميں كيا تبديلى پيدا ہوتى ہے، كيونكہ ان كافروں كے معاشروں ميں گندگى پائى جاتى ہے اور يہ اتنے گندے ہو چكے ہيں اور ان كے اخلاق اتنے گر چكے ہيں كہ وہاں رہنے والا ان سے متاثر ہوئے بغير نہيں رہتا.

آپ اپنى بيوى كى حالت ہى ديكھ ليں كہ وہ كس طرح دين پر چلنے والى اور ايك صحيح راہ پر گامزن اور حافظ قرآن تھى، اور اب ديكھيں وہاں رہ كر اب اس كا سلوك كيا ہے كہ وہ آپ كے لباس پر بھى قدغن لگا رہى ہے، اور عفت و عصمت كى مالك پردہ كرنے والى اور شرعى لباس زيب تن كرنےوالى بہنوں كو كيسے برا سمجھنے لگى ہے، يہ صرف اس معاشرے كى گندگى اور برے اثر اور ماحول كا نتيجہ ہے اور كچھ نہيں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے كفار كے درميان رہنے كى حرمت بيان كرنے كے بعد بہت ہى عمدہ اور نفيس كلام كرتے ہوئے كہا ہے:

" كسى مومن شخص كا دل اس پر كيسے راضى اور خوش ہو سكتا ہے كہ وہ كفار كے ملك ميں رہے جہاں كفر و شرك كے شعار كا اعلان ہو اور اعلانيہ طور پر اس كا ارتكاب كيا جائے، اور پھر وہاں غير اللہ كا حكم نافذ ہو، اور اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كے خلاف فيصلے ہوں، اور وہ خاموشى سے اپنى آنكھوں سے يہ سب كچھ ديكھتا رہے اور كانوں سے سنتا رہے اور اس پر راضى ہو؟!

بلكہ وہ اس ملك كى طرف منسوب ہوتے ہوئے اس كى شہريت بھى حاصل كرے، اور وہاں اپنے بيوى اور بچوں كے ساتھ رہائش اختيار كرے، اور ان پر بالكل اسى طرح مطمئن ہو جس طرح وہ مسلمانوں كے ملك ميں مطمئن ہوتا ہے، حالانكہ وہاں اسے اور اس كے بيوى بچوں كے ليے دينى اور اخلاقى طور پر عظيم خطرہ ہے؟!.

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 3 / 30 ).

اس مسئلہ كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 14235 ) اور ( 3225 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

رہا يہ مسئلہ كہ بيوى كبھى كبھار نادر طور پر ہى نماز ادا كرتى ہے، تو يہ تارك نماز كے حكم ميں ہو گى، اور تارك نماز كفار ميں شمار ہوتا ہے، اور آپ كا اسے نماز ادا كرنے كى نصيحت پرغضبناك ہونا اس پر دلالت كرتا ہے كہ وہ دين كے اس عظيم شعار اور ركن كى توہين كرتى ہے اور اسے كچھ نہيں سمجھتى، اور اس كے ترك نماز كے اصرار پر دلالت كرتا ہے، اس بنا پر آپ كے ليے اس كے ساتھ رہنا حلال نہيں، بلكہ اگر وہ ترك نماز پر اصرار كرے اور مصر رہے اور وعظ و نصيحت اور سزا اور بستر سے عليحدگى كام نہ آئے تو آپ اس سے عليحدہ ہو جائيں.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:

ايك شخص كى بيوى نماز ادا نہيں كرتى تو كيا اس پر اسے نماز ادا كرنے كا حكم دينا واجب ہے، اور اگر وہ پھر بھى نماز ادا نہ كرے تو كيا اس خاوند كے ليے بيوى سے عليحدگى اختيار كرنا واجب ہو جائيگا يا نہيں ؟

شيخ الاسلام كا جواب تھا:

" جى ہاں اس كے ليے بيوى كو نماز كى ادائيگى كا حكم دينا واجب ہے، بلكہ اس پر واجب ہے كہ وہ ہر اس كو اس كا حكم دے جس كو وہ حكم دينے پر قادر ہے اور اسے كوئى دوسرا حكم نہيں ديتا كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

] اور تم اپنے گھر والوں كو نماز كا حكم دو اور اس پر صبر كرو [.

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

] اے ايمان والو اپنے آپ اور اپنے گھر والوں كو جہنم كى اس آگ سے محفوظ كر لو جس كا ايندھن لوگ اور پتھر ہيں [.

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" انہيں تعليم دو اور انہيں ادب سكھاؤ "

يہ حديث مرفوعا صحيح نہيں، بلكہ على ابن طالب سے مروى ہے.

اس كے ساتھ يہ بھى چاہيے كہ وہ بيوى كو رغبت كے ساتھ اس پر ابھارے جس طرح وہ اپنى ضرورت كى اشياء پر اسے ابھارتا ہے، اور اگر پھر بھى وہ ترك نماز پر اصرار كرے تو اسے طلاق دے دينى چاہيے، كيونكہ صحيح قول كے مطابق يہى واجب ہے، اور تارك نماز كے متعلق مسلمانوں كا اتفاق ہے كہ وہ سزا كا مستحق ہے، بلكہ جب وہ نماز ادا نہ كرے تو قتل كيا جائيگا، اور وہ كافر اور مرتد قتل ہو گا، اس ميں يہى دو مشہور قول ہيں " واللہ تعالى اعلم.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 32 / 276 - 277 ).

واللہ اعلم.


الاسلام سوال و جواب



 
 
 
 
سب حقوق اسلام سوال و جواب ويب سائٹ كے ليے محفوظ ہيں ©  1997-2009  : 126.14