والدین سے حسن سلوک

•  منكر حديث والد كے ساتھ حسن سلوك كرنا.
•  فرضي اورنفلی حج کے لیے والدین کی اجازت .
•  کیا بیٹے اوربیٹی کو والدین کے اختیار کردہ رشتہ سے انکار کا حق ہے .
•  والد كى اطاعت كرتے ہوئے شراب كى خريدارى كرنا.
•  کیا بیٹا والد کی رضامندی کےبغیر شادی کرسکتاہے ؟.
•  كيا وہ والدہ كى طرف سے حج كرے كا والد كى جانب سے ؟.
•  اگر والد فجر كى نماز مسجد ميں ادا كرنے سے منع كرتا ہو تو كيا بيٹا اس كى اطاعت كرے ؟.
•  كھانے پينے اور نماز كے معاملہ ميں بيٹے كا والدہ سے جھگڑا كرنا.




منكر حديث والد كے ساتھ حسن سلوك كرنا  
ميں ايك بے دين خاندان ميں زندگى بسر كر رہا ہوں جو ميرے ساتھ مذاق كرتا اور مجھ پر ظلم كرتا ہے، الحمد للہ ميں دين پر عمل پيرا ہوں، ميرے والد صاحب كا اعتقاد ہے كہ وہ احاديث جو قرآن مجيد ميں پائے جانے والے امور كى شرح كرتى ہيں مثلا نماز وغيرہ ان پر عمل كرنا واجب ہے، اور جو امور قرآن مجيد ميں نہيں مثلا اجنبى عورت سے مصافحہ كرنا ان احاديث پر عمل كرنا واجب نہيں.
اس كے علاوہ بھى والد صاحب كے كئى ايك اعتقادات ہيں، مجھے علم ہے كہ والدين كے ساتھ حسن سلوك كرنا واجب ہے، كيا ميرے ليے اپنے والد كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز ہے ؟
اگر جواب نفى ميں ہو تو كيا ميں يہ ظاہر كر سكتا ہوں كہ ميں اس كے پيچھے نماز ادا كروں اور بعد ميں نماز لوٹا لوں تا كہ والد ناراض نہ ہوں ؟


الحمد للہ :

سائل بھائى جس حالت ميں زندگى بسر كر رہا ہے وہ بالفعل ايك مشكل حالت ہے، كسى مومن شخص كے ليے باپ كے ساتھ زندگى بسر كرنا آسان كام نہيں جو ضلالت و گمراہى ميں پڑا ہوا ہو، اور وہ صحيح منھج اہل سنت والجماعت كا مسلك كا اختيار نہ كرے بلكہ كسى اور مسلك پر عمل پيرا ہو ليكن مسلمان كو اس طرح كے والد كے متعلق صبر و تحمل سے كام ليتے ہوئے اجروثواب كى نيت ركھنى چاہيے، اور اسے وعظ و نصيحت كرنے ميں نرمى اور بصيرت سے كام لينا چاہيے، اور ايسے وسائل بروئے كار لائے جس سے والد كو يہ محسوس نہ ہو كہ بيٹا اس كے خلاف ہے، اور نہ ہى اس كے ساتھ بے رخى اور قطع تعلقى سے كام لے، بلكہ اس سے والد يہ محسوس كرے كہ يہ اس بيٹے كى جانب سے نصيحت ہے جو والد كا ادب و احترام كرنا جانتا ہے، اور والد كے ساتھ حسن سلوك كرنے والے بيٹے كى نصيحت ہے، اور اس كے ساتھ شفقت كے ساتھ پيش آنے والا ہے جيسا كہ ابراہيم عليہ السلام كى جانب سے والد كو تبليغ كے وقت ہوا تھا.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اس كتاب ميں ابراہيم عليہ السلام كا قصہ بيان كريں، بيشك وہ بڑى سچائى والے نبى تھے ﴾

﴿ جبكہ انہوں نے اپنے باپ سے كہا كہ ابا جان ! آپ ان كى پوجاپاٹ كيوں كر رہے ہيں جو نہ تو سنتے ہيں نہ ديكھتے ؟ نہ آپ كو كچھ نفع اور فائدہ دے سكيں؟ ﴾

﴿ ميرے مہربان ابا جان! آپ ديكھيے ميرے پاس وہ علم آيا ہے جو آپ كے پاس آيا ہى نہيں، تو آپ ميرى ہى مانيں ميں بالكل سيدھى راہ كى طرف آپ كى راہنمائى كرونگا ﴾

﴿ ميرے پيارے اباجان! آپ شيطان كى پرستش سے باز آجائيں شيطان تو رحم وكرم والے اللہ تعالى كا بڑا ہى نافرمان ہے ﴾

﴿ ابا جان! مجھے خوف لگا ہوا ہے كہ كہيں آپ پر كوئى عذاب الہى نہ آپڑے كہ آپ شيطان كے ساتھ بن جائيں ﴾

﴿ اس نے جواب ديا كہ اے ابراہيم! كيا تو ہمارے معبودوں سے روگردانى كر رہا ہے، سن لو اگر تو باز نہ آيا تو ميں تجھے پتھروں سے مار مار كر ہلاك كر ڈالوں گا، جا ايك مدت دراز تك مجھ سے الگ رہو ﴾

﴿ اس نے كہا اچھا تم پر سلامتى ہو، ميں تو اپنے پروردگار سے تمہارى بخشش كى دعا كرتا رہوں گا، وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے ﴾مريم ( 41 - 47 ).

چنانچہ ابراہيم عليہ السلام نے ميرے اباجان كى رقيق اورنرم پكار لگاتے ہوئے اے ميرے ابا جان كے الفاظ كہے، انہوں نے يہ نہيں فرمايا: ميں عالم ہوں اور آپ جاہل ہيں، بلكہ يہ فرمايا كہ ميرے پاس وہ علم آيا ہے جو آپ كے پاس نہيں آيا.

اور اپنے والد پر اپنى شفقت اور نرمى اور اس كى سلامتى كا اظہار كرتے ہوئے كہا:

اے ميرے ابا جان مجھے ڈر ہے كہ كہيں آپ كو اللہ رحمن كى جانب سے عذاب الہى نہ پہنچ جائے، اور جب ان كے والد نے انكار كر ديا اور رجم كرنے كى دھمكى دى تو ابراہيم عليہ السلام نے اس سے زيادہ كچھ نہيں كہا بلكہ يہ بھى پورے ادب و احترام سے كہا كہ آپ پر سلامتى ہو، اور اس كے ساتھ دعائے استغفار كا وعدہ كيا.

چنانچہ ہمارے نيك و صالح بيٹوں كى جانب سے اپنے گمراہ باپوں كو اسى طرح كى دعوت ہونى چاہيے.

آپ كو علم ہونا چاہيے كہ سنت و حديث كا انكار يا اس ميں سے كسى چيز كا انكار كرنا بہت ہى خطرناك مسئلہ ہے ـ اس موضوع كى تفصيل ہم كسى اور جگہ پر كرينگے ـ ليكن ہم اختصار كے ساتھ يہ كہتے ہيں كہ:

اگر آپ كے والد كى بدعت اسے دين اسلام سے ہى نكال دے مثلا بالكل حديث كا انكار كرنا، اور اس پر حجت بھى قائم ہو چكى ہو، اس كے باوجود وہ حق ماننے سے انكار كردے تو پھر اس كے كفر كى بنا پر اس كے پيچھے آپ كى نماز صحيح نہيں.

ليكن اگر اس كى بدعت كفر تك نہيں پہنچتى مثلا وہ كسى حديث كے حكم پر عمل نہيں كرتا ـ كمى و كوتاہى كى بنا پر ـ تو آپ كے ليےاس كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز ہے، تو اس وقت آپ كى نماز صحيح ہو گى. واللہ اعلم

اضافہ:

اس سوال كے متعلق ہميں شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ تعالى كى جانب سے درج ذيل كلمات ملے:

بعض اوقات انكار تاويل ہوتا ے، اور بعض اوقات انكار جحد، چنانچہ اگر انكار جحد ہو يعنى وہ يہ كہے: جى ہاں مجھے علم ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے، ليكن ميں اسے نہيں مانتا، اور نہ ہى قبول كرتا ہوں، اگر تو ايسا ہو تو وہ كافر اور اسلام سے مرتد ہے، اور اس كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز نہيں.

اور اگر اس كا انكار انكار تاويل ہو تو پھر ديكھا جائيگا كہ اگر تو اس كى تاويل اس كى محتمل ہو جو لغت جائز كرتى ہے، اور مصادر شريعت اور اس كے موارد جانتے ہيں تو يہ شخص كار نہيں ہو گا، بلكہ يہ بدعتيوں ميں شامل ہوتا ہے، اگر اس كا قول بدعتى ہو تواس كے پيچھے نماز ادا كى جائيگى ليكن اگر اس كے پيچھے نماز ترك كرنے ميں كوئى مصلحت ہو كہ وہ اپنى بدعت سے باز آجائے اور معاملات ميں دوبارہ سوچ و بچار كرے گا تو اس كے پيچھے نماز ادا نہ كى جائے.

اس باپ كى حالت يہ ہے كہ وہ بعض احاديث جو قرآن مجيد كے موافق اور اس كى شرح ہيں كا اقرار كرتا ہے، ليكن اسى وقت وہ دوسرى قسم كا انكار كرتا ہے جو قرآن مجيد سے زائد ہے، اس طرح كا عمل عظيم بدعت ميں شمار ہوتا ہے، جس پر شارع نے وعيد سنائى ہے، يسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں كوئى ايك كسى اور اپنى مسند پر سہارا لگائے ہوئے پائيگا .... الحديث"

يہ بہت بڑى بدعت ہے ايسى بدعت كے مرتكب شخص كے متعلق خدشہ ہے.

واللہ اعلم .


الشيخ محمد صالح المنجد



فرضي اورنفلی حج کے لیے والدین کی اجازت   
کیا کوئي شخص والدین کی اجازت کے بغیر حج کرسکتاہے ؟ اورکیا اس کا حج صحیح ہوگا ؟
اورکیا والدین کی اجازت کے بغیر علم حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ اورکیا وہ دونوں گناہ گارہونگے ؟


الحمدللہ

والدین کوحق حاصل ہے کہ وہ نفلی حج سے روک سکتے ہیں اورایسا کرنے سے وہ گنہگارنہيں ہونگے ، لیکن والدین کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ فرضی حج کرنے سے منع کریں اورفرضی حج کی ادائيگي سے منع کرنے پروہ گنہگارہونگے ۔

لھذا جب بیٹا والدین کی اجازت کے بغیر حج ادا کرے تواس کا یہ حج مطلقا صحیح ہوگا – اگرچہ وہ نفلی حج میں گنہگار ہوگا – اوراسی طرح اسے والدین کی اجازت کے بغیر ( شرعی ) علم کے حصول کے لیے سفر کی بھی اجازت ہے ۔ .


دیکھیں : کتاب : فتاوی الامام النووی صفحہ نمبر ( 94 ) ۔



کیا بیٹے اوربیٹی کو والدین کے اختیار کردہ رشتہ سے انکار کا حق ہے   
والدین کو اپنے بچے کا رفیق حیات اختیار کرنے میں کہاں تک حق حاصل ہے ، اورکیا اگر وہ بیٹی کو اپنے کسی رشتہ دار سے شادی پرمجبور کریں جسے بیٹی نہیں چاہتی تو اس کا حکم کیا ہوگا ؟
اور اگر بیٹی انکار کردے تووہ کس حد تک گنہگار ہوگی ، کیا والدین کے اختیار کردہ شخص سے شادی نہ کرنے کا بیٹی کو اختیار ہے ؟


الحمدللہ

شروط نکاح میں یہ شامل ہے کہ خاوند اوربیوی دونوں کی عقد نکاح پر رضامندی ہو جس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث میں موجود ہے :

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ، اورنہ ہی شادی شدہ بھی اس کے مشورہ کے بغیر بیاہی جاسکتی ہے ۔

صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت کیسے ہوگي ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب وہ خاموشی اختیار کرلے ) صحیح بخاری حديث نمبر ( 5136 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1419 ) ۔

تونکاح کے لیے خاوند کی رضامندی ضروری ہے اوراسی طرح بیوی کی بھی رضامندی ہونا لازمی ہے ، لھذا والدین کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بیٹے یا پھر بیٹی کی شادی اس سے کریں جسے وہ ناپسند کرتے ہوں ۔

لیکن اگر والدین نے شادی کے لیے ایسا رشتہ اختیار کیا ہو جونیک اورصالح اور اخلاقی لحاظ سے بھی صحیح ہو تو پھر بیٹے یا بیٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس میں اپنے والدین کی اطاعت کرے ، اس لیے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جب تمہارے پاس ایسا رشتہ آئے جس کے دین اوراخلاق کوتم پسند کرتے ہو تو اس سے شادی کردو ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1084 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1967 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی ( 865 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

لیکن اگروالدین کی یہ اطاعت بعد میں علیحدگي کا باعث بنے تو پھر اس میں والدین کی اطاعت لازم نہيں ، اس لیے کہ ازدواجی تعلقات کی اساس ہی رضامندی ہے ، اورپھر یہ رضامندی شریعت کے موافق ہونی ضروری ہے ، وہ اس طرح کہ بچے یا بچی کو دین اوراخلاق والے شریک حیات پر راضي ہونا چاہیے ۔

الشيخ ڈاکٹر خالد المشیقح

اوراگر بچہ اس میں والدین کی اطاعت نہیں کرتا تو نافرمان شمار نہيں ہوگا ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

والدین کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بچے کو اس سے نکاح کرنے پر مجبور کریں جس سے وہ نکاح نہيں کرنا چاہتا ، اوراگر وہ نکاح نہيں کرتا تو اس سے وہ نافرمان اورعاق نہيں ہوگا ، جس طرح کہ اگر کوئي چيز نہ کھانا چاہے ۔ دیکھیں الاختیارات ( 344 ) ۔

واللہ اعلم .


الاسلام سوال وجواب



والد كى اطاعت كرتے ہوئے شراب كى خريدارى كرنا  
ميرے والد صاحب شراب نوشى كرتے ہيں، اور مجھے شراب لانے كا كہتے ہيں، ليكن ميں ان كے سامنے انكار نہيں كر سكتا، كيونكہ والد صاحب ہى گھر كى آمدنى كا واحد ذريعہ ہيں تو كيا مجھے شراب كى خريدارى پر باز پرس ہو گى ؟

الحمد للہ:

اللہ سبحانہ و تعالى نے اولاد پر والدين كى اطاعت و فرمانبردارى فرض كى ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ آپ كہيے كہ آؤ ميں تم كو وہ چيزيں پڑھ كر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام كى ہي، وہ يہ كہ اللہ كے ساتھ كسى چيز كو شريك مت ٹھراؤ، اور ماں باپ كے ساتھ احسان كرو، اور اپنى اولاد كو افلاس كے ڈر سے قتل مت كرو، ہم تم كو اور ان كو رزق ديتے ہيں، اور بےحيائى كے جتنے طريقے ہيں ان كے پاس بھى مت جاؤ چاہے وہ علانيہ ہوں يا پوشيدہ، اور جس كا خون كرنا اللہ تعالى نے حرام كر ديا ہے اس كو قتل مت كرو، ہاں مگر حق كے ساتھ، ان كا تم كو تاكيدى حكم ديا ہے تا كہ تم سمجھو }الانعام ( 151 ).

اور اللہ تعالى نے اولاد كے ليے والدين كى نافرمانى حرام كى ہے.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تيرا رب صاف صاف حكم دے چكا ہے كہ تم اس كے سوا كسى اور كى عبادت نہ كرنا، اور ماں باپ كے ساتھ احسان كرنا، اگر تيرى موجودگى ميں ان ميں سے كوئى ايك يا دونوں بڑھاپے كو پہنچ جائيں تو ان كے آگے اف تك نہ كہنا، نہ انہيں ڈانٹ ڈپٹ كرنا بلكہ ان كے ساتھ ادب و احترام سے بات چيت كرنا } الاسراء ( 23 ).

اور يہ اطاعت و فرمانبردارى واجب ہے، ليكن اگر آپ كے والدين آپ كو شرك يا معصيت و نافرمانى كا حكم ديں تو پھر اس ميں ان كى اطاعت نہيں ہو گى، كيونكہ اللہ خالق الملك كى نافرمانى ميں كسى بھى مخلوق كى اطاعت نہيں ہے.

اور پھر كتاب و سنت اور اجماع كے دلائل سے شراب حرام ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، شيطانى كام ہيں، ان سے بالكل الگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ، شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ شراب اور جوئے كے ذريعہ تمہارے آپس ميں ميں عدوات اور بغض پيدا كر دے اور تمہيں اللہ تعالى كى ياد اور نماز سے روك دے تو اب بھى باز آ جاؤ}المآئدۃ ( 90 ).

شراب ميں دس آدميوں پر لعنت كى گئى ہے، جن ميں خريدار بھى شامل ہے.

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شراب ميں دس آدميوں پر لعنت كى: شراب كشيد كرنے والے، اور شراب كشيد كروانے والے، اور شراب نشى كرنے والے، اور شراب اٹھانے والے اور جس كى طرف اٹھا كر ليجائى جائے، اور شراب فروخت كرنے والے، اور اس كى قيمت كھانے والے، اور شراب خريدنے والے، اور جس كے ليے خريدى گئى ہے سب پر لعنت فرمائى "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1259 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3381 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 1041 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

خلاصہ يہ ہوا كہ:

آپ كے ليے جائز نہيں كہ آپ والد كے ليے شراب خريديں، اور اللہ تعالى كى معصيت و نافرمانى ميں مخلوق كى اطاعت نہيں ہو سكتى، چاہے يہ چيز آپ كے ليے والد كى ناراضگى كا باعث بنے، اور وہ آپ كے ليے بد دعاء بھى كرے، تو وہ خود گنہگار ہو گا، اور شريعت ميں اس كا كوئى وزن نہيں.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى لوگوں كو ناراض كر كے اللہ تعالى كو راضى كيا تو اللہ تعالى اسے كافى ہو جائيگا، اور جس نے لوگوں كو راضى كر كے اللہ كو ناراض كيا تو اللہ تعالى اسے لوگوں كے سپرد كر ديگا "

صحيح ابن حبان ( 1 / 115 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 2311 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كے والد كو ہدايت سے نوازے.

واللہ اعلم .


الاسلام سوال و جواب



کیا بیٹا والد کی رضامندی کےبغیر شادی کرسکتاہے ؟  
کیا کوئي شخص اپنے والد کی رضامندی کے بغیر دینی اوراخلاقی لحاظ سے پسندیدہ لڑکی سے شادی کرسکتا ہے ؟

الحمد للہ
جب بیٹا کسی دینی اوراخلاقی لحاظ سے اچھی لڑکی کواختیار کرتا ہے تو وہ اس میں غلطی پر نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت بھی یہی ہے کہ جوبھی نکاح کرنا چاہے وہ دین اوراخلاق والی لڑکی اختیار کرے ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( عورت سے چاروجوہات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے ، اس کے مال ودولت کی وجہ سے ، اس کےحسب ونسب کی وجہ سے ، اوراس کی حسن خوبصورتی کی وجہ سے ، اوراس کے دین کی وجہ سے ، تمہارے ہاتھ خاک میں ملیں تم دین والی کو اختیار کرو ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4802 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1466 ) ۔

ذيل میں ہم آپ اورآپ کے والد صاحب کے لیے شيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کی نصیحت پیش کرتے ہیں جو آپ کے موضوع سے ہی متعلقہ ہے :

اس سوال کا تقاضا ہے کہ ہم دو طرح کی نصیحت کریں ۔

پہلی نصیحت : آپ کے والد کے لیے ہے کہ وہ آپ کو دین اوراچھے اخلاق کی مالکہ عورت سےشادی نہیں کرنے دیتا بلکہ آپ کے والد پر واجب ہے کہ وہ آپ کو اس لڑکی سے شادی کی اجازت دے دے اورانکار پر اصرار نہ کرے ، لیکن اگر اس کے پاس کوئي شرعی عذر ہے تو وہ آپ کے سامنے بیان کرے اوربتائے تا کہ آپ بھی مطمئن ہوں ۔

اسے یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اس کا والد اسے ایک دین والی اوراچھے اخلاق کی مالک لڑکی سے شادی نہ کرنے دے تو کیا وہ نہیں سوچے گا کہ اس میں اس کی آزادی سلب کی گئي ہے اوراسے دبایا جارہا ہے ؟

جب وہ اپنے والدکی طرف سے ایسا ہونے میں خوش نہیں تو پھر وہ اس پر کیسے راضي ہورہا ہے کہ اس سے خود اپنے بیٹے کے حق میں ایسا ہو ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تو فرمان ہے کہ :

( تم میں اس وقت تک کوئي مومن ہی نہيں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائي کے لیے بھی وہی چيز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ) ۔

لھذا آپ کے والد کے لیے ایسا کرنا حلال نہیں کہ وہ اس لڑکی سے آپ کو بغیر کسی شرعی سبب کے شادی نہ کرنے دے ، اوراگر کوئي شرعی سبب ہے تواسے بیان کرنا چاہیے کہ تا کہ آپ کو بھی اس کا علم ہو ۔

اورسائل کو ہماری یہ نصحیت ہے کہ :

میں یہ کہوں گا کہ اگر آپ اس عورت کو چھوڑ کر کسی اورعورت سے شادی کرليں تا کہ آپ کے والدہ صاحب بھی راضي ہوجائيں اورتفرقہ بھی نہ پڑے اگر ایسا کرنا ممکن ہو تو آپ ایسا کرلیں ۔

اوراگر یہ نہیں ہوسکتا وہ اس طرح کہ آپ اس لڑکی سےمحبت کرنے لگے ہیں اورآپ کو یہ بھی خدشہ ہو کہ اگر کسی اور عورت سے منگنی کروں تو وہاں بھی والد شادی نہیں کرنے دیں گے – کیونکہ بعض لوگوں کے دلوں میں غیرت یا پھر حسد ہوتا ہے چاہے وہ اپنے بیٹوں کے بارہ میں ہی کیوں نہ ہو وہ اپنے بیٹوں کو بھی اپنی مرضی کا کام نہیں کرنے دیتے بلکہ اس سے منع کرتے ہیں ۔

میں یہ کہوں گا کہ جب آپ کو اس کا خدشہ ہو اورآپ اس عورت سے محبت کرنے لگے ہیں اورصبر نہيں کرسکتے تو پھر آپ کےلیے کوئي حرج نہيں آپ اس لڑکی سے شادی کرليں چاہے آپ کے والد ناپسند ہی کریں ، ہوسکتا ہے کہ شادی کے بعد وہ مطمئن ہوجائيں اور رضامندی کا اظہار کرنے لگیں اوران کے دل میں جو کچھ ناراضگي ہے وہ ختم ہوجائے ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ دونوں معاملوں میں سے جو بھی آپ کے لیے اچھا ہو اس میں آپ کے لیے آسانی پیدا فرمائے ۔

دیکھیں فتاوی اسلامیۃ ( 4 / 193- 194 ) ۔

واللہ اعلم .


الشیخ محمد صالح المنجد



كيا وہ والدہ كى طرف سے حج كرے كا والد كى جانب سے ؟  
الحمد للہ ميں حج كر چكا ہوں اور ميرے والدين فوت ہو چكے ہيں ميں ان كى جانب سے حج كرنا چاہتا ہوں كيا والدہ كى طرف سے پہلے حج كروں ؟
اور اگر دونوں كى طرف سے حج كرتا ہوں تو دوسرے كے ليے مجھے قرض حاصل كر كے كسى دوسرے شخص كو حج بدل كروانا ہو گا ؟


الحمد للہ :

حسن سلوك ميں والدہ كا مقام والد سے زيادہ ہے اس ليے والدہ حسن سلوك كى زيادہ مستحق ہے:

بخارى اور مسلم رحمہما اللہ نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:

ايك شخص رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آ كر كہنے لگا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ لوگوں ميں سے سب سے زيادہ ميرے حسن سلوك كا مستحق كون ہے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تيرى والدہ، اس شخص نے كہا: پھر كون ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تيرى والدہ، وہ شخص كہنے لگا: پھر كون ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تيرى والدہ، اس شخص نے كہا پھر كون ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: پھر تيرا والد "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5971 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2548)

ابن بطال رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس كا تقاضا يہ ہے كہ والد كى بنسبت والدہ تين حصے زيادہ حسن سلوك كى مستحق ہے، ان كا كہنا ہے كہ: يہ حمل اور پھر وضع حمل اور پھر دودھ پلانے كى صعوبت برداشت كرنے كى بنا پر ہے، اور اس ميں ماں كو انفرادى حيثيت حاصل ہے اور وہى يہ بوجھ اور تكليف برداشت كرتى ہے، پھر والد تربيت ميں شامل ہوتا ہے.

اور اس كا اشارہ مندرجہ ذيل فرمان بارى ميں موجود ہے:

﴿اور ہم نے انسان كو اس كے ماں باپ كے متعلق نصيحت كى ہے، اس كى ماں نے دكھ پر دكھ اٹھا كر اسے حمل ميں ركھا اور اس كى دودھ چھڑائى دو برس ميں ہے ﴾لقمان ( 14 ).

اللہ تعالى نے نصيحت ميں برابرى كى اور والدہ كو تين امور ميں خصوصيت سے نوازا.

قرطبى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

مراد يہ ہے كہ نيكى اور حسن سلوك ميں والدہ كو زيادہ حق حاصل ہے اور حقوق زيادہ ہونے كے وقت والدہ كے حقوق كو مقدم كيا جائے گا.

اور قاضى عياض رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

جمہور علماء كرام كا كہنا ہے كہ نيكى اور احسان ميں والدہ كو والد سے مقدم كيا جائے گا.

اور يہ بھى كہا گيا ہے كہ: نيكى ميں دونوں برابر ہيں، ليكن صحيح پہلا قول ہى ہے. انتہى

ماخوذ از فتح البارى لابن حجر.

اور مسلم كى شرح ميں امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس حديث ميں الصحابۃ صحبۃ كے معنى ميں ہے، علماء كرام كا كہنا ہے كہ والدہ كو مقدم كرنے كا سبب اولاد كے متعلق اس كى تكاليف كا زيادہ ہونا ہے، اور ماں كى اولاد پر شفقت اور خدمت كرنا اور حمل اور پھر جننے اور پھر دودھ پلانے كى مشقت برداشت كرنے، اور پھر بچے كى تربيت اور اس كى بيمارى وغيرہ كا خيال كرنے كى بنا پر ہے. انتہى

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے اس جيسے مسئلہ كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

پہلے اپنى والدہ كى جانب سے حج كرو كيونكہ ماں باپ سے نيكى اور حسن سلوك كى زيادہ حقدار ہے، يہ تو فرضى حج ميں ہے، ليكن اگر ماں كى طرف سے نفلى حج ہو اور باپ كا فرضى تو پھر والد كا حج پہلے كيا جائيگا كيونكہ يہ فرضى ہے.

ليكن والد كى جانب سے حج كرنے كے ليے آپ رقم قرض نہ ليں، اور اگر آئندہ برس آپ قدرت ركھيں تو والد كى جانب سے حج كر ليں، اور آپ كا والد كى جانب سے خود حج كرنا كسى دوسرے كو حج ميں نائب بنانے سے بہتر اور افضل ہے، كيونكہ آپ كا اپنے والد كے ليے اخلاص كسى دوسرے كا آپ كے والد كے ليے اخلاص سے زيادہ ہو گا.

اس ليے ہم يہ كہتے ہيں كہ: اپنے والد كى جانب سے حج كرنے كے ليے آپ قرض حاصل نہ كريں تا كہ كسى كو والد كى جانب سے حج بدل كروائيں، بلكہ اس برس جب آپ كو استطاعت حاصل ہے تو اپنى والدہ كى جانب سے حج كر ليں، اور آئندہ برس اگر طاقت ہوئى تو اپنے والد كى جانب سے حج كر ليں. انتہى

ديكھيں: فتاوى ابن عثيمين ( 21 / 134 ).

واللہ اعلم .


الاسلام سوال وجواب



اگر والد فجر كى نماز مسجد ميں ادا كرنے سے منع كرتا ہو تو كيا بيٹا اس كى اطاعت كرے ؟  
ميرى عمر سولہ برس ہے اور مسجد ہمارے گھر كے بہت قريب ہے، ليكن والد صاحب مجھے فجر كى نماز كے ليے مسجد نہيں جانے ديتے، اور باقى نمازيں مسجد ميں ادا كرنے ديتے ہيں، كہ مجھے خدشہ ہے آپ كو كوئى حادثہ نہ پيش آ جائے، كيونكہ ہمارے اور گھر كے مابين ايك چوراہا آتا ہے، يعنى دو سڑكيں ملتيں ہيں، حالانكہ ميں نے والد صاحب كو آيات اور احاديث پيش كر مطمئن كرنے كى كوشش كى ہے، ليكن كوئى فائدہ نہيں ہوا، تو كيا ميں ان كے علم كے بغير مسجد ميں نماز كے ليے چلا جاؤں ؟

الحمد للہ:

اول:

ہمارے سائل بھائى ابتدا ميں ہم نماز پنجگانہ مسجد ميں ادا كرنے ميں آپ كى اس ہمت كى داد ديتے ہيں، اور اللہ تعالى سے آپ كے ليے دين پر استقامت كى دعا كرتے ہيں، اور دعا ہے كہ آپ كے والد كى جانب سے اس طرح كے تصرفات آپ كى استقامت ميں خلل پيدا نہ كريں، اور خير و ہدايت كے كاموں سے پيچھے نہ ہٹائيں.

آپ كے سوال كا جواب دينے سے قبل ايك بہت ہى اہم اور ضرورى چيز كا ذكر كرنا ضرورى سمجھتے ہيں، اور وہ درج ذيل ہے:

والدين كى اطاعت و فرمانبردارى اور ان كے ساتھ حسن سلوك فرض ہے اللہ سبحانہ وتعالى نے اپنى كتاب عزيز قرآن مجيد ميں بہت سے مقامات پر اس كى وصيت كرتے ہوئے فرمايا:

﴿اور صرف اللہ تعالى كى عبادت كرو، اور اس كے ساتھ كسى كو بھى شريك مت كرو، اور والدين كے ساتھ حسن سلوك سے پيش آؤ ﴾النساء (36 ).

اور ايك مقام پر اس طرح فرمايا:

﴿اور آپ كا رب صاف صاف حكم دے چكا ہے كہ تم اس كے سوا كسى اور كى عبادت نہ كرنا، اور والدين كے ساتھ احسان كرنا، اگر تيرى موجودگى ميں ان ميں سے ايك يا دونوں بڑھاپے كو پہنچ جائيں تو ان كے آگے اف تك نہ كہنا نہ انہيں ڈانٹ ڈپٹ كرنا، بلكہ ان كے ساتھ ادب و احترام سے بات چيت كرنا، اور عاجزى و محبت كے ساتھ ان كے سامنے تواضع كا بازو پست ركھنے ركھنا، اور دعا كرتے رہنا كہ اے ميرے پروردگار! ان پر ويسا ہى رحم كر جيسا انہوں نے ميرے پچپن ميں ميرى پرورش كى ﴾الاسراء ( 23 - 24 ).

آپ كو علم ہونا چاہيے كہ آپ پر والدين كى اطاعت لازم ہے، ليكن اللہ تعالى كى معصيت و نافرمانى ميں آپ ان كى اطاعت نہيں كر سكتے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ تعالى كى معصيت ميں اطاعت نہيں، بلكہ اطاعت تو نيكى اور معروف ميں ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6830 ) صحيح مسلم حديث نمبر (1840 )

اور رہا مسئلہ نماز باجماعت كا مسئلہ تو نماز باجماعت ادا كرنا فرض ہے اور والد كے ليے مكلف بيٹے كو اس سے منع كرنے كا كوئى حق حاصل نہيں، بلكہ والدين كو چاہيے كہ وہ اپنى اولاد كو اس كى ترغيب ديں، اور اس پر ابھاريں، اور اگر والد بيٹے كى جانب سے اس فرض كى ادائيگى ميں تقصير اور كوتاہى محسوس كرے تو وہ اسے اس مسئوليت كى ياد دہانى كروائے جو اس پر ڈالى گئى ہے، اس ذمہ دارى كے متعلق حساب و كتاب كے دن اللہ تعالى كو جواب دينا ہو گا، اس ليے وہ اپنى رعايا اور ماتحت افراد كو نيكى كا حكم اور برائى سے منع كرے، اور ان پر رب كى جانب سے جو واجبات ہيں انہيں ياد دلائے، اور اس ميں سستى و كاہلى كرنے كے خطرناك انجام كو ان كے سامنے ركھے.

اور اگر والد اپنى اولاد كے حق ميں كسى قسم كى كوتاہى كرتے ہوئے انہيں نيكى كا حكم نہيں ديتا، اور برائى سے منع نہيں كرتا، اور نہ ہى خير كے كاموں كى ترغيب دلاتا، اور شر و برائى كے كاموں سے ڈراتا نہيں تو يہ والد اپنى اولاد كے حرام كاموں كے ارتكاب، اور واجبات ميں كوتاہى كا ذمہ وار ہے.

اور اگر معاملہ يہاں تك پہنچ جائے كہ والد اپنى اولاد كو اللہ تعالى كے فرض كردہ واجبات سے منع كرتا ہے، تو اس وقت اللہ تعالى كى معصيت ميں والد كى اطاعت و فرمانبردارى نہيں ہو گى، يا اس كے كہنے پر اللہ تعالى كا فرض كردہ كام ترك نہيں كيا جائيگا.

اگر والد بيٹے كو سب يا بعض نمازيں باجماعت ادا كرنےسے منع كرے تو يہ معصيت و نافرمانى كا حكم ہے، اس وقت اس كى اطاعت و فرمانبردارى نہيں كى جائيگى، ليكن اس كے باوجود والد كے ساتھ حسن سلوك اور نيكى كے ساتھ پيش آيا جائيگا.

آپ كا يہ سوال كہ آيا آپ چورى چھپے نماز فجر كے ليے جا سكتے ہيں؟

اس كا جواب يہ ہے كہ: ايسا كرنا آپ كے ليے اچھا اور بہتر ہو گا، ليكن آپ كے والد كے ليے اس اعتبار سے برا ہو گا كہ اسے معلوم ہى نہيں، جب تك آپ كے والد آپ كو نمازباجماعت سے منع كرتے ہيں وہ معصيت كے مرتكب ہو رہے ہيں، حتى كہ اگر آپ اس كے علم كے بغير بھى نماز كے ليے جائيں تو وہ گناہ سے نہيں بچيں گے، كيونكہ وہ تو آپ كو برائى كا حكم دے رہے، اور نيكى سے منع كر رہے ہيں.

حتى كہ اگر آپ ان كے علم كے بغير نماز كے ليے بھى چليں جائيں، اس ليے آپ كو پہلے تو والد صاحب كو شرعى حكم كے ساتھ مطمئن كرنے كى كوشش كريں، اگر وہ آپ كى بات نہيں سنتے يا آپ كو چھوٹا سمجھتے ہيں تو كسى اور شخص كے ذريعہ ہى انہيں مطمئن كريں، اور اگر وہ پھر بھى قبول نہ كريں تو آپ كے ليے بغير اجازت اور ان كے علم كے بغير جانے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن آپ مسجد جاتے ہوئے راستے ميں احتياط سے كام ليں.

دوم:

ہم آپ كے والد كو كہتے ہيں ـ اللہ تعالى انہيں ہدايت سے نوازے ـ كہ اللہ تعالى نے ان پر بہت عظيم ذمہ دارى ڈال ركھى ہے، جو كہ اپنى بيوى بچوں كى تعليم اور نصيت كى ہے.

بخارى اور مسلم شريف كى حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے ہر ايك ذمہ دار ہے، اور اسے اس كى رعايا كى ذمہ دارى كے متعلق سوال كيا جائيگا، مرد اپنے گھر والوں كا ذمہ دار ہے، اور اسے اس كى اس رعايا كے متعلق سوال كيا جائيگا"

اور پھر اللہ تعالى نے آپ كو حكم ديا ہے كہ آپ اپنے آپ اور اپنے اہل و عيال كو جہنم كى آگ سے محفوظ كريں.

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿اے ايمان والو! تم اپنے آپ اور اپنے اہل و عيال كو اس آگ سے بچاؤ جس كا ايندھن لوگ اور پتھر ہيں، اس پر سخت قسم كے ايسے فرشتے مقرر ہيں، جو اللہ تعالى كے حكم كى نافرمانى نہيں كرتے، اور وہ وہى كچھ كرتے ہيں جو انہيں حكم ديا جاتا ہے ﴾التحريم ( 6 ).

اور نماز كے حكم كے ميں اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اور آپ اپنے گھر والوں كو نماز ادا كرنے كا حكم ديں، اور خود بھى اس پر جما رہ ہم تجھ سے روزى طلب نہيں كرتے، بلكہ ہم خود تجھے روزى ديتے ہيں اور آخر ميں بول بالا پرہيزگارى كا ہى ہے ﴾طہ ( 132 ).

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" جس نے بھى اپنے بچے كى تعليم ميں سستى كى اور تعليم كا خيال نہ ركھا، اور بچے كو بيكار چھوڑ ديا تو اس نے بہت غلط كام كيا، اكثر بچوں كى خرابى ان كے والد كى جانب سے ہوتى ہے كيونكہ وہ ان كى تعليم و تربيت كا خيال نہيں كرتے، اور انہيں دين كے فرائض اور سنن كى تعليم نہيں ديتے، تو انہيں چھوٹى عمر ميں ضائع كر بيٹھتے ہيں، اور خود بھى كوئى فائدہ حاصل نہيں كر پاتے، اور جب اولاد بڑى ہو جاتى ہے تو والدين كو بھى كوئى نفع نہيں ديتى " انتہى

ديكھيں: تحفۃ الودود صفحہ نمبر ( 229 ).

ہم آپ سے ايك بہت ہى اہم سوال كرتے ہيں:

آپ نماز فجر ميں كہاں ہيں ؟! كيا نماز فجر كى باجماعت ادائيگى آپ پر فرض نہيں تھى؟ ! كيا آپ اپنے گھر والوں اور بچوں كے ليے قدوہ اور نمونہ نہيں بن سكتے كہ مسجد ميں جاكر نماز فجر باجماعت ادا كريں ؟!

اگر آپ ايسا كرتے ہيں تو آپ نے اللہ تعالى كى جانب سے اپنے اوپر ايك واجب كى ادائيگى كى، اور مسجد ميں نماز ادا كرنے پر اپنے بچے كى بھى معاونت اور مدد كى ہے، اور اس طرح آپ اس كے اكيلا مسجد جانے كے خوف سے بھى بچ جائيں گے.

اے عزيز والد آپ كو علم ہونا چاہيے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں بتايا ہے كہ جو شخص نماز فجر ادا كرتا ہے وہ اللہ تعالى كے ذمہ ميں ہے تو آپ ايسے شخص كے متعلق كيوں خوفزدہ ہيں جو اللہ تعالى كى ذمہ اور حفظ و امان ميں ہے؟!

جندب بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے صبح كى نماز ادا كى وہ اللہ تعالى كى حفظ و امان اور اس كے ذمہ ميں ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 657 ).

يہاں ذمہ سے مراد ضمانت، اور حفظ وامان مراد ہے، جيسا كہ امام نووى كا كہنا ہے.

ہمارى اللہ تعالى سے دعا ہے كہ آپ كو امانت كى ادائيگى كى توفيق نصيب فرمائے، اور آپ اپنے اہل و عيال كے ليے بہترين قدوہ اور نمونہ بنيں، اور مسجد ميں نمازيں ادا كرنے ميں اپنے بيٹے كے ممد و معاون بنيں.

واللہ اعلم .


الاسلام سوال وجواب



كھانے پينے اور نماز كے معاملہ ميں بيٹے كا والدہ سے جھگڑا كرنا  
ميرا بھائى بہت موٹا ہے اور بہت زيادہ كھاتا ہے، جب بھى والدہ اسے كم كھانے كى نصيحت كرتى اور دھمكى ديتى ہے كہ اگر اس نے بات نہ مانى تو وہ اس سے ناراض ہو جائيگى، تو بھائى جواب ديتا ہے كہ:
كھانا حرام تو نہيں، اور والدہ كو كسى حلال كام سے منع كرنے كا كوئى حق حاصل نہيں ؟
اور وہ نماز بھى مسجد ميں ادا نہيں كرتا، والدہ جب بھى اسے مسجد نہ جانے كا سبب پوچھتى ہے تو وہ جواب ديتا ہے: نماز باجماعت سنت مؤكدہ ہے جيسا كہ امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ كا قول ہے.
اور وہ اذان كے بعد نماز كو بہت ليٹ كر كے ادا كرتا ہے، ہم جب بھى اسے كہتے ہيں كہ وقت پر نماز ادا كيوں نہيں كرتے تو جواب ديتا ہے كہ: ميں نماز كے مقرر كردہ وقت سے ليٹ تو نہيں كرتا، اس ليے كہ نماز كے اوقات معروف ہيں جو اذان اور اقامت كے ساتھ ملے ہوئے نہيں، ہم اس كا جواب كيا ديں ؟


الحمد للہ :

اول:

يقينا اللہ تعالى كا اپنے بندوں پر سب سے عظيم احسان يہ ہے كہ اس نے زمين ميں ہر چيز اس كے ليے مسخر كر ركھى ہے، اور اس پر نعمتيں نازل فرمائى اور ان كے ليے پاكيزہ اشياء كھانے پينے اور پہننے كے ليے مباح كى ہيں.

ليكن اللہ تعالى نے ان اشياء كے استعمال ميں اسراف كرنے يا پھر اس ميں ايسى رخصت تلاش كرنا جس ميں اسے ضرر اور اذيت ہو يا وہ اسے اس كے دين و دنيا ميں زيادہ نفع والى چيز كے آڑے آرہى ہو ميں مشغول ہونے والے كى مذمت بھى كى ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿كھاؤ پيئو اور اسراف و فضول خرچى مت كرو، كيونكہ اللہ تعالى فضول خرچى اور اسراف كرنے والوں سے محبت نہيں كرتا ﴾الاعراف ( 31 ).

دوم:

ابن آدم كے ليے سب سے زيادہ ہلاكت اور تباہ كرنے والى اشياء ميں پيٹ كى شہوت ہے، اور پھر پيٹ شہوات كا منبع اور بيماريوں اور آفات كى جڑ ہے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" آدمى كے ليے سب سے برى چيز اس كا بھرا ہوا پيٹ ہے، ابن آدم كے ليے تو اس كى پيٹھ سيدھى ركھنے كے ليے چند لقمے ہى كافى ہيں، اگر وہ اس كے بغير نہيں رہ سكتا تو ايك تہائى كھانے كے ليے، اور ايك تہائى پينے اور ايك تہائى حصہ سانس لينے كے ليے ركھے"

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2380 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

يعنى ابن آدم صرف اتنا كھائے جو اس كى پيٹھ كو سيدھا ركھے، اور اس سے زيادہ نہ كھائے، ليكن اگر وہ اس سے زيادہ كھانا ہى چاہتا ہے تو پھر اتنا پيٹ بھر كر كھا سكتا ہے كہ پيٹ كے تين حصے كرے ايك حصہ كھانے، اور ايك حصہ پينے اور تيسرا حصہ سانس لينے كے ليے ركھے، اس سے زيادہ مقدار ميں نہ كھائے.

ديكھيں: تحفۃ الاحوذى.

دور جاہليت ميں عقلمند اور دانشور كم كھانے كى تعريف كيا كرتے تھے:

حاتم طائى كا قول ہے:

اگر تو نے پيٹ اور شرمگاہ كو اس كى مطلوبہ اشياء دے ديں تو دونوں خون كى انتہائى مقدار حاصل كر لينگے.

ديكھيں: فتح البارى ( 9 / 669 ).

اور اگر انسان اتنا زيادہ كھا لے كہ يہ اس كے ليے ضرر اور نقصان كا باعث بنے تو يہ حرام ہے.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

كيا زيادہ كھانا حرام ہے ؟

تو كميٹى كا جواب تھا:

" جى ہاں مسلمان كے ليے اتنا زيادہ كھانا كہ اس سے ضرر اور نقصان ہو حرام ہے؛ كيونكہ يہ اسراف ميں شامل ہوتا ہے، اور اسراف حرام ہے.

اس كى دليل اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اے بنى آدم مسجد ميں حاضر كے وقت لباس پہن ليا كرو، اور كھاؤ پيؤ اور اسراف نہ كرو كيونكہ اللہ تعالى اسراف كرنے والوں سے محبت نہيں كرتا﴾ الاعراف ( 31 ). انتہى

ديكھيں فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 22 / 329 ).

سير ہو كر اور پيٹ بھر كر كھانے ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ترہيب وارد ہوئى ہے، يہ اس ليے كہ ايسا كرنا روز قيامت بھوك كا باعث ہو گا.

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك شخص كى پاس ڈكار ليا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہم سے اپنا ڈكار روك كر ركھو، كيونكہ دنيا ميں اكثر سير رہنے والا شخص روز قيامت سب سے زيادہ مدت بھوكا رہے گا "

جامع ترمذى حديث نمبر ( 2015 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

الجشاء: سير ہونے كى صورت ميں انسان سے ہوا كے ساتھ خارج ہونے والى آواز كو كہا جاتا ہے.

ابن ابى الدنيا اور طبرانى نے كبير اور الاوسط ميں اور بيہقى نے ابو جحيفہ سے يہى روايت بيان كى ہے اور اس ميں انہوں نے يہ زيادہ كيا ہے كہ:

ابو جحيفہ نے موت تك پيٹ بھر كر نہيں كھايا، جب وہ دوپہر كا كھانا كھا ليتے تو رات كو نہ كھاتے، اور جب رات كو كھا ليتے تو دوپہر كا كھانا نہ كھاتے.

اور ابن ابى الدنيا كى ايك روايت ميں ہے:

ابو جحيفہ كہتے ہيں: ميں تيس برس سے اپنا پيٹ نہيں بھرا.

ديكھيں: تحفۃ الاحوذى.

زيادہ كھانا ترك كرنے كا طريقہ يہ ہے كہ كھانا بتدريج اور آہستہ آہستہ كم كيا جائے، اس ليے كہ جو شخص زيادہ كھانے كا عادى ہو اور يكبارگى كھانے ميں كمى كرنے پر اس ميں كمزورى اور نقاہت آ جائيگى، اور اس كى مشقت بڑھ جائيگى، اس ليے اسے تھوڑا تھوڑا كھانا كم كرنا چاہيے، وہ اس طرح كہ عادتا كھانے ميں كچھ كمى كرتا رہے حتى كہ كھانے اعتدال حد ميں چلا جائے.

سوم:

اگر نماز باجماعت كى ادائيگى سنت مؤكدہ ہے، يا پھر اول وقت ميں نماز ادا كرنا افضل ہے تو اس كا معنى يہ ہوا كہ ہميں اس كو مضبوطى سے تھامنا چاہيے، اور اس كى مداومت اور حرص كريں، نہ كہ اس كى ادائيگى ميں سستى و كاہلى سے كام ليں، ہميں اللہ تعالى كا شكر بجا لانا اور اس كى تعريف كرنى چاہيے كہ اس نے ہمارے ليے عبادت اور خير كے طريقے، اور سنن ہدى مشروع كى ہيں، اور ہميں اپنوں سے پہلى نسل اور سلف كے حال سے عبرت حاصل كرنى چاہيے.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں:

" جسے يہ بات اچھى لگتى ہے كہ وہ كل اللہ تعالى كو مسلمان ہو كر ملے تو وہ ان نماز پنجگانہ كى ادائيگى وہاں كرے جس جگہ اس كى اذان ہوتى ہے، كيونكہ اللہ تعالى نے تمہارے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے سنن ہدى مشروع كى ہيں، اور يہ نمازيں سنن ہدى ميں سے ہيں، اگر تم پيچھے رہ كر اپنے گھر ميں نماز ادا كرنے والے شضص كى طرح گھروں ميں ہى نماز ادا كرنے لگو تو تم نے اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كو ترك كر ديا، اور اگر تم نے اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ترك كى تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص بھى اچھى طرح طہارت كر كے بہترين وضوء كرتا ہے پھر ان مساجد ميں سے كسى ايك مسجد كى طرف جاتا ہے تو اللہ تعالى ہر قدم كے بدلے اس كے ليے ايك نيكى لكھتا ہے، اور ايك درجہ بلند فرماتا ہے، اور اس كى ايك غلطى معاف كرتا ہے، ہم نے ديكھا ہے كہ اس نماز سے پيچھے صرف منافق ہى رہتا ہے جس كا نفاق معلوم ہو، ايك شخص كو دو آدميوں كے درميان پكڑ كر لايا جاتا اور اسے صف ميں كھڑا كر ديا جاتا تھا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

يہ تو اس صورت ميں ہے جب ہم فرض كريں كہ نماز باجماعت ادا كرنا سنت مؤكدہ ہے، بہت سے سوالات كے جوابات ميں نماز باجماعت كے وجوب كا بيان ہو چكا ہے.

اس كى تفصيل آپ مندرجہ ذيل سوالات ميں ديكھ سكتے ہيں: \

( 120 ) اور ( 8918 ) اور ( 10292 ) اور ( 21498 ) اور ( 40113 ).

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ ہميں اور آپ كو ايسے كام كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جو اس كى محبت اور رضا كے باعث ہوں.

واللہ اعلم .


الاسلام سوال وجواب